بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || برطانوی اخبار دی اکانومسٹ نے لکھا:
اگرچہ سعودی عرب میں رائے عامہ کے بارے میں کوئی مصدقہ رائے شماری (polls) موجود نہیں ہے، لیکن یہ کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر سعودی شہری اپنی حکومت پر اعتماد کرتے ہیں۔ تاہم، گذشتہ چند ہفتوں کے واقعات نے سعودی عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ یمن کی جنگ نے نمایاں مشکلات اور مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔
مزید برآں، 10 اکتوبر کے بعد سے ـ جب ریاض ہوائی اڈے پر انصار اللہ کے میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے ـ محمد بن سلمان بڑی حد تک منظرِ عام سے غائب رہا ہے۔ اس دوران سعودی وزراء ہی کیمروں کے سامنے آئے، متاثرین سے ملاقاتیں کیں اور عوام کو تسلی دی۔
کچھ مغربی مبصرین نے حال ہی میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ: کیا بحرانوں سے بھرپور یہ سال سعودی ولی عہد کی حکمرانی کے لئے وجودی خطرہ بن سکتا ہے، یا اقتدار پر اس کی گرفت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؟
گوکہ [دی اکانومسٹ کے بقول] ریاض میں مقیم سفارت کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کے اندازے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔
محمد بن سلمان کے لئے موجودہ بحران کیوں مختلف ہے؟
موجودہ صورتحال سعودی ولی عہد کے لیے ماضی کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے ابتدائی سالوں میں پیش آنے والی مشکلات بڑی حد تک ان کے اپنے فیصلوں اور اقدامات کا نتیجہ تھیں—اور اس لیے، انہیں درست کرنا نسبتاً آسان معلوم ہوتا تھا۔ 2021 تک، انہوں نے سعودی خارجہ پالیسی کو ایک زیادہ عملی (pragmatic) سمت کی طرف موڑ دیا تھا؛ انہوں نے قطر کا محاصرہ ختم کیا اور انصار اللہ تحریک کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی [جبکہ سفارت کاری کے ذریعے یمن کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کی]۔ اس سال صورتحال زیادہ مشکل ہے، کیونکہ محمد بن سلمان کو درپیش سب سے اہم فیصلہ اب ان کے اپنے اختیار میں نہیں رہا۔
محمد بن سلمان نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تناؤ میں اضافہ نہ کرے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اگر امریکی صدر نے اس درخواست کو نظر انداز کیا، اور نومبر میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ بمباری شروع کی ـ تو سعودی عرب چاروں طرف سے حملوں کی زد میں آئے گا:
- جنوب سے "انصار اللہ" تحریک،
- شمال سے عراقی مقاومتی تحریکیں، اور
- مشرق کی جانب سے خود ایران۔
سعودی عرب ایک وسیع رقبے والا ملک ہے جسے دفاع کی ضرورت ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے فرانس سے چار گنا بڑا ہے، لیکن اس کے پاس فضائی دفاعی میزائلوں (انٹرسیپٹر میزائلز) کا ذخیرہ بہت محدود ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد، بن سلمان نے مقبولیت حاصل کرنے کی امید سے، سعودی معاشرے میں تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ تاہم، ان اقدامات کے باوجود، سعودی ریاست کا روایتی بنیادی ڈھانچہ بڑی حد تک بدستور قائم ہے:
- معیشت اب بھی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتی ہے؛
- فوج کو بنیادی طور پر میدانِ جنگ میں لڑنے کے بجائے "آلِ سعود" (شاہی خاندان) کے تحفظ کے لئے منظم کیا گیا ہے؛ اور
- سعودی خارجہ پالیسی اب بھی امریکہ پر ایک ناگزیر سرپرست کے طور پر انحصار کرتی ہے، جو واشنگٹن کو سیاسی، اقتصادی اور عسکری مساوات میں واحد کلیدی فریق سمجھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: شیدا فرہادیان پور
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ